جبر و اکراہ
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - زبردستی، ظلم و زیادتی۔ "اپنے ہاتھ سے لکھ دیا کہ دونوں بلا جبرو اکراہ کے اقبال کرتے ہیں" ( ١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ١٨٢:١ )
اشتقاق
دو عربی اسما کے درمیان حرف عطف 'و' لگنے سے سے مرکب عطفی 'جبرو اکراہ' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٨٥ء میں "تہذیب الخصائل" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - زبردستی، ظلم و زیادتی۔ "اپنے ہاتھ سے لکھ دیا کہ دونوں بلا جبرو اکراہ کے اقبال کرتے ہیں" ( ١٩١٩ء، واقعات دارالحکومت دہلی، ١٨٢:١ )
جنس: مذکر